Website Under Development — More features & sections coming soon!

آئینِ یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ

Constitution of the United Youth Parliament

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

آئینِ یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ

Constitution of the United Youth Parliament
ورژن 1.0 — سال: 2026
دیباچہ
ہم، یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ کے اراکین، اس یقین کے ساتھ کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں، اس دستور کو اختیار کرتے ہیں تاکہ نوجوانوں میں قیادت، ذمہ داری، جمہوری شعور، پارلیمانی روایات، قومی یکجہتی، سماجی خدمت اور مثبت کردار کو فروغ دیا جا سکے۔
یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے قائم کردہ پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو اظہارِ رائے، مکالمے، تحقیق، قائدانہ صلاحیتوں اور عوامی خدمت کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
ہم اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ:
اس مقصد کے حصول کے لیے ہم یہ دستور مرتب، منظور اور نافذ کرتے ہیں تاکہ یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ ایک منظم، باوقار اور مؤثر ادارے کے طور پر نوجوانوں کی نمائندگی اور تربیت کا فریضہ انجام دے سکے۔
ہم آئین اور قانون کی بالادستی کا احترام کریں گے۔
ہم جمہوری اقدار، برداشت اور مثبت مکالمے کو فروغ دیں گے۔
ہم نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔
ہم اتحاد، قیادت اور ترقی کے اصولوں پر کاربند رہیں گے۔
ہم پاکستان کے روشن، پرامن اور ترقی یافتہ مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
ہم تنظیم کے وقار، ساکھ اور اصولوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

نوجوانوں کو قیادت، پارلیمانی تربیت، سماجی شعور، شہری ذمہ داری اور قومی خدمت کے ذریعے بااختیار بنانا۔

ایسی نوجوان قیادت تیار کرنا جو اخلاقی اقدار، علم، بصیرت اور خدمت کے جذبے کے ساتھ پاکستان کے مستقبل کی مثبت رہنمائی کر سکے۔

باب اول: ابتدائی دفعات
آرٹیکل 1: نام، حیثیت اور تشریح
1. اس تنظیم کا نام "یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ" (United Youth Parliament) ہوگا جسے مختصراً (UYP) کہا جا سکے گا۔
2. یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ ایک غیر سیاسی، غیر سرکاری، غیر منافع بخش اور نوجوانوں کی قیادت و تربیت کے لیے قائم کردہ تعلیمی و فکری پلیٹ فارم ہوگا۔
3. تنظیم کا مقصد نوجوانوں کو پارلیمانی نظام، جمہوری روایات، قیادت، مکالمے اور قومی خدمت کے لیے تیار کرنا ہوگا۔
4. یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ کسی سیاسی جماعت، مذہبی گروہ، نسلی یا لسانی تنظیم کی نمائندہ نہیں ہوگی۔
5. تنظیم اپنے تمام معاملات اس دستور، قواعد و ضوابط اور ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلوں کے مطابق چلائے گی۔
آرٹیکل 2: مقاصد و اغراض
یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ کے مقاصد درج ذیل ہوں گے:
1. نوجوانوں میں قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دینا۔
2. پارلیمانی نظام، جمہوری اقدار اور آئینی شعور کو فروغ دینا۔
3. نوجوانوں کو قومی، سماجی اور عوامی مسائل پر اظہارِ خیال کا پلیٹ فارم فراہم کرنا۔
4. نوجوانوں میں تحقیق، مکالمہ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔
5. نوجوانوں کو قومی خدمت، رضاکارانہ سرگرمیوں اور مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا۔
6. پاکستان کے نوجوانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد کرنا۔
7. نوجوان قیادت کی تربیت اور صلاحیت سازی کے مواقع فراہم کرنا۔
آرٹیکل 3: تنظیمی اصول و اقدار
تمام ارکان اور عہدیداران درج ذیل اصولوں کے پابند ہوں گے:
1. دیانت داری
2. شفافیت
3. احترامِ انسانیت
4. برداشت
5. قانون کی پاسداری
6. قومی یکجہتی
7. خدمتِ خلق
8. مثبت مکالمہ
9. غیر جانبداری
10. تنظیمی نظم و ضبط
آرٹیکل 4: غیر سیاسی و غیر جانبدار حیثیت
1. یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ ایک غیر سیاسی تنظیم ہوگی۔
2. تنظیم کے اندر موجود جماعتیں صرف تعلیمی اور تربیتی مقاصد کے لیے قائم کی جائیں گی۔
3. تنظیم کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں سرگرمی نہیں کرے گی۔
4. تنظیم کے پلیٹ فارم کو سیاسی مہم، انتخابی مہم یا سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
5. تمام ارکان تنظیمی سرگرمیوں کے دوران غیر جانبدار رویہ اختیار کرنے کے پابند ہوں گے۔
باب دوم: رکنیت
آرٹیکل 5: رکنیت
1. یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ کی رکنیت پاکستان کے تمام اہل نوجوانوں کے لیے کھلی ہوگی۔
2. رکنیت درخواست، انٹرویو اور تنظیمی منظوری کے بعد دی جا سکے گی۔
3. تنظیم ضرورت کے مطابق رکنیت کے مختلف درجات متعارف کروا سکتی ہے۔
4. ہر منظور شدہ رکن کو تنظیم کا رکن تصور کیا جائے گا اور وہ تنظیم کے قواعد و ضوابط کا پابند ہوگا۔
آرٹیکل 6: رکنیت کے لیے اہلیت
رکنیت کے لیے امیدوار میں درج ذیل خصوصیات ہونا ضروری ہوں گی:
1. اچھا اخلاقی کردار۔
2. نوجوانوں اور معاشرے کے لیے مثبت سوچ۔
3. تنظیمی قواعد و ضوابط کی پابندی کا عزم۔
4. قیادت اور سیکھنے کا جذبہ۔
5. تنظیم کے مقاصد سے اتفاق۔
6. کوئی ایسی سرگرمی نہ ہو جو تنظیم کی ساکھ کو نقصان پہنچائے۔
آرٹیکل 7: حلفِ رکنیت
ہر رکن درج ذیل حلف اٹھائے گا:
“میں حلف اٹھاتا/اٹھاتی ہوں کہ میں یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ کے آئین، قواعد و ضوابط اور اصولوں کی پابندی کروں گا/کروں گی، تنظیم کے وقار کا تحفظ کروں گا/کروں گی، تمام ارکان کا احترام کروں گا/کروں گی اور نوجوانوں، معاشرے اور پاکستان کی بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کروں گا/کروں گی۔”
آرٹیکل 8: ارکان کے حقوق و فرائض
ہر رکن کو درج ذیل حقوق حاصل ہوں گے:
1. تنظیمی سرگرمیوں میں شرکت۔
2. پارلیمانی اجلاسوں میں شرکت۔
3. انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق۔
4. قواعد کے مطابق کسی عہدے کے لیے امیدوار بننے کا حق۔
5. اپنی رائے اور تجاویز پیش کرنے کا حق۔
ہر رکن کے فرائض درج ذیل ہوں گے:
1. تنظیمی قواعد کی پابندی۔
2. اجلاسوں اور سرگرمیوں میں ذمہ دارانہ شرکت۔
3. تنظیم کی ساکھ اور وقار کا تحفظ۔
4. دیگر ارکان کے ساتھ احترام کا رویہ اختیار کرنا۔
آرٹیکل 9: رکنیت کی معطلی و خاتمہ
1. تنظیمی قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں رکن کو شوکاز نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے۔
2. سنگین بدانتظامی، تنظیم مخالف سرگرمی، جعلی معلومات یا تنظیم کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی صورت میں رکنیت معطل یا ختم کی جا سکتی ہے۔
3. کسی بھی کارروائی سے قبل متعلقہ رکن کو وضاحت کا موقع دیا جائے گا۔
4. رکنیت کی معطلی یا خاتمے کا فیصلہ ایگزیکٹو بورڈ کرے گا۔
باب سوم: جماعتی نظام
آرٹیکل 10: دو جماعتی نظام
1. یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ دو جماعتی نظام پر مشتمل ہوگی۔
2. تنظیم کے اندر صرف درج ذیل جماعتیں تسلیم شدہ ہوں گی:
Youth Unity Party (YUP)
Youth Progress Party (YPP)
3. ہر منتخب یوتھ ایم پی اے کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ ان دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک کا رکن بنے۔
4. کوئی بھی رکن بیک وقت دونوں جماعتوں کا رکن نہیں بن سکتا۔
5. تنظیم کے اندر کسی نئی جماعت، دھڑے یا متوازی سیاسی گروپ کے قیام کی اجازت نہیں ہوگی۔
6. یہ جماعتیں صرف پارلیمانی تربیت، مباحثے، قیادت سازی اور جمہوری مشق کے لیے قائم کی گئی ہیں اور ان کا کسی حقیقی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
آرٹیکل 11: یوتھ یونٹی پارٹی (Youth Unity Party — YUP)
1. یوتھ یونٹی پارٹی یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ کی تسلیم شدہ جماعتوں میں سے ایک ہوگی۔
2. جماعت کا بنیادی مقصد اتحاد، قومی ہم آہنگی، باہمی احترام اور نوجوانوں میں مشترکہ قیادت کو فروغ دینا ہوگا۔
3. جماعت اپنے اندرونی معاملات اس دستور اور تنظیمی قواعد کے مطابق چلائے گی۔
4. جماعت کا ہر رکن تنظیمی نظم و ضبط کا پابند ہوگا۔
5. جماعت کا اپنا ایک مخصوص منشور (Manifesto) ہوگا جس کے مشن اور مقاصد کے تحت نوجوان اس میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔
آرٹیکل 12: یوتھ پروگریس پارٹی (Youth Progress Party — YPP)
1. یوتھ پروگریس پارٹی یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ کی تسلیم شدہ جماعتوں میں سے ایک ہوگی۔
2. جماعت کا بنیادی مقصد ترقی، جدت، اصلاحات اور نوجوانوں کی فکری و سماجی بہتری کو فروغ دینا ہوگا۔
3. جماعت اپنے تمام معاملات تنظیمی آئین کے مطابق چلائے گی۔
4. جماعت کے تمام ارکان تنظیمی قواعد و ضوابط کے پابند ہوں گے۔
5. جماعت کا اپنا ایک مخصوص منشور (Manifesto) ہوگا جس کے مشن اور مقاصد کے تحت نوجوان اس میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔
آرٹیکل 13: جماعتی رکنیت
1. ہر منتخب یوتھ ایم پی اے کے لیے لازم ہوگا کہ وہ کسی ایک جماعت کی رکنیت اختیار کرے۔
2. کسی بھی رکن کو ایک وقت میں صرف ایک جماعت کی رکنیت حاصل ہوگی۔
3. جماعتی رکنیت کا مکمل ریکارڈ جنرل سیکرٹری کے دفتر میں محفوظ رکھا جائے گا۔
4. ہر جماعت اپنے ارکان کی فہرست مرتب کرنے کی پابند ہوگی۔
آرٹیکل 14: جماعتی تبدیلی (Party Switching)
1. ہر رکن کو اپنی جماعت تبدیل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
2. جماعت تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ رکن اپنی موجودہ جماعت کے پارٹی چیف کو تحریری درخواست دے گا۔
3. درخواست جمع ہوتے ہی متعلقہ رکن سابقہ جماعت سے مستعفی تصور ہوگا۔
4. مستعفی ہونے کے بعد متعلقہ رکن چھ (6) گھنٹوں کے اندر دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرنے کا پابند ہوگا۔
5. نئی جماعت میں شمولیت کا ریکارڈ جنرل سیکرٹری کے دفتر میں جمع کروانا ضروری ہوگا۔
6. انتخابی دن (Election Day) کسی بھی رکن کو جماعت تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
7. جماعتی وابستگی سے قطع نظر ہر رکن کو خفیہ رائے شماری کے ذریعے اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگا۔
آرٹیکل 15: حکومتی و اپوزیشن گروپ
1. انتخابات کے بعد اکثریت حاصل کرنے والی جماعت "حکومتی گروپ" کہلائے گی۔
2. دوسری جماعت "اپوزیشن گروپ" کہلائے گی۔
3. حکومتی گروپ پارلیمانی سرگرمیوں میں حکومتی کردار ادا کرے گا۔
4. اپوزیشن گروپ حکومتی کارکردگی کا جائزہ لے گا اور اصلاحی تجاویز پیش کرے گا۔
5. دونوں جماعتیں تنظیمی اتحاد اور نوجوانوں کی بہتری کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گی۔
آرٹیکل 16: پارٹی چیف اور ڈپٹی پارٹی چیف
1. ہر جماعت اپنے ارکان میں سے ایک پارٹی چیف اور ایک ڈپٹی پارٹی چیف منتخب کرے گی۔
2. پارٹی چیف جماعت کی نمائندگی، قیادت اور تنظیمی امور کا ذمہ دار ہوگا۔
3. ڈپٹی پارٹی چیف، پارٹی چیف کی معاونت کرے گا اور اس کی عدم موجودگی میں ذمہ داریاں سنبھالے گا۔
4. پارٹی چیف اپنی جماعت کے نظم و ضبط، سرگرمیوں اور ممبران کی شرکت کا ذمہ دار ہوگا۔
5. پارٹی چیف آئین اور تنظیمی قواعد کی پابندی کا ذمہ دار ہوگا۔
آرٹیکل 17: ماہانہ کارکردگی رپورٹ
1. ہر جماعت کا پارٹی چیف ماہانہ کارکردگی رپورٹ ایگزیکٹو بورڈ کو جمع کروائے گا۔
2. رپورٹ میں جماعتی سرگرمیاں، اجلاس، ممبران کی شرکت اور آئندہ منصوبہ بندی شامل ہوگی۔
3. رپورٹ مقررہ مدت میں جمع نہ کروانے کی صورت میں شوکاز نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے۔
4. مسلسل دو ماہ رپورٹ جمع نہ کروانے کی صورت میں معاملہ ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔
5. حکومتی گروپ کے پارٹی چیف اور کابینہ کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر 30 سے 40 دن کے اندر ایک پارلیمانی سیشن کا انعقاد کریں۔ یہ سیشنز ہر بار الگ الگ اضلاع میں منعقد کیے جائیں گے۔
6. اپوزیشن گروپ کے لیے لازم ہوگا کہ وہ باقاعدگی سے سرگرمیاں منعقد کرے، جس کی شرح کم از کم 1 سے 2 سرگرمیاں فی مہینہ ہونی چاہیے۔
باب چہارم: پارلیمانی نظام
آرٹیکل 18: پارلیمانی اجلاس
1. یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ باقاعدگی سے پارلیمانی اجلاس منعقد کرے گی۔
2. اجلاس کا مقصد نوجوانوں کو پارلیمانی طریقہ کار، مکالمہ، قیادت اور عوامی مسائل پر اظہارِ خیال کا موقع فراہم کرنا ہوگا۔
3. اجلاس کی تاریخ، مقام اور ایجنڈا ایگزیکٹو بورڈ یا سیکرٹری پارلیمانی امور کی جانب سے جاری کیا جائے گا۔
4. تمام ارکان اجلاس کے دوران پارلیمانی آداب اور ضابطۂ اخلاق کی پابندی کریں گے۔
آرٹیکل 19: اسپیکر
1. اسپیکر پارلیمانی اجلاس کا غیر جانبدار سربراہ ہوگا۔
2. اسپیکر اجلاس کی کارروائی چلانے، نظم و ضبط برقرار رکھنے اور قواعد کے نفاذ کا ذمہ دار ہوگا۔
3. اسپیکر کو کسی رکن کو خطاب کی اجازت دینے یا روکنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
4. اسپیکر اجلاس کے دوران غیر جانبداری برقرار رکھنے کا پابند ہوگا۔
5. اجلاس کے دوران اسپیکر کا فیصلہ حتمی تصور کیا جائے گا۔
آرٹیکل 20: ڈپٹی اسپیکر
1. ڈپٹی اسپیکر، اسپیکر کا معاون ہوگا۔
2. اسپیکر کی عدم موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر تمام اختیارات استعمال کرے گا۔
3. ڈپٹی اسپیکر پارلیمانی امور، اجلاسوں اور کارروائی کی نگرانی میں اسپیکر کی معاونت کرے گا۔
4. اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں پارلیمانی وقار، غیر جانبداری اور آئینی اصولوں کے محافظ ہوں گے۔
آرٹیکل 21: عارضی اسپیکر اور عارضی ڈپٹی اسپیکر
1. نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب سے قبل چیئرمین ایک عارضی اسپیکر اور عارضی ڈپٹی اسپیکر مقرر کر سکے گا۔
2. عارضی اسپیکر صرف انتخابی اجلاس کی کارروائی چلانے کا مجاز ہوگا۔
3. نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد عارضی عہدہ خود بخود ختم تصور ہوگا۔
4. عارضی اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر انتخابی عمل کے دوران مکمل غیر جانبداری برقرار رکھنے کے پابند ہوں گے۔
آرٹیکل 22: تقاریر اور وقت کی تقسیم
1. ہر رکن پارلیمانی اجلاس میں خطاب کرنے کا حق رکھتا ہوگا۔
2. اجلاس سے قبل مقررین کے لیے رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنا ضروری ہوگا۔
3. مقررین اپنے خطاب کا موضوع پہلے سے جمع کروائیں گے۔
4. موصولہ درخواستوں کی تعداد کے مطابق ہر مقرر کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔
5. ہر مقرر اپنے مقررہ وقت کے اندر خطاب مکمل کرنے کا پابند ہوگا۔
6. مقررہ وقت مکمل ہونے پر اسپیکر کو خطاب روکنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
7. کسی بھی مقرر کو بلاوجہ اضافی وقت نہیں دیا جائے گا۔
آرٹیکل 23: پارلیمانی ضابطۂ اخلاق
1. تمام ارکان اجلاس کے دوران باوقار، مہذب اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں گے۔
2. ذاتی حملے، توہین آمیز گفتگو، دھمکی آمیز بیانات اور نفرت انگیز زبان استعمال نہیں کی جا سکے گی۔
3. اسپیکر کے فیصلوں اور ہدایات کا احترام کرنا لازم ہوگا۔
4. شور شرابہ، ہنگامہ آرائی یا اجلاس میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
5. خلاف ورزی کی صورت میں اسپیکر وارننگ یا دیگر مناسب کارروائی کر سکتا ہے۔
آرٹیکل 24: کارروائی، سفارشات اور ریکارڈ
1. ہر اجلاس کی کارروائی تحریری طور پر محفوظ کی جائے گی۔
2. جوائنٹ سیکرٹری اجلاس میں پیش کیے گئے اہم نکات، تجاویز اور سفارشات کا ریکارڈ مرتب کرے گا۔
3. عوامی مفاد سے متعلق اہم تجاویز کو علیحدہ رپورٹ کی صورت میں محفوظ کیا جا سکے گا۔
4. ایگزیکٹو بورڈ ضرورت کے مطابق متعلقہ اداروں، نمائندوں یا فورمز تک سفارشات پہنچا سکتا ہے۔
5. ہر اجلاس کے بعد ایک مختصر کارروائی رپورٹ تیار کی جا سکتی ہے۔
آرٹیکل 25: اجلاس کی ریکارڈنگ و میڈیا حقوق
1. تمام پارلیمانی اجلاسوں کی ویڈیو، آڈیو یا تصویری ریکارڈنگ کی جا سکتی ہے۔
2. تنظیم کو حق حاصل ہوگا کہ وہ اجلاس کی ریکارڈنگ، تصاویر اور تقاریر کو اپنی ویب سائٹ، سوشل میڈیا اور تشہیری مواد میں استعمال کرے۔
3. اجلاس میں شرکت کرنے والا ہر رکن اس امر سے اتفاق کرے گا کہ اس کا خطاب، تصویر یا ویڈیو تنظیمی مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔
4. کسی رکن کو تنظیمی ریکارڈنگ کے غیر مجاز استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔
5. اگر کسی رکن کو کوئی ذاتی مسئلہ ہو اور وہ سوشل میڈیا پر اپنی تصویر یا ویڈیو شیئر نہیں کرنا چاہتا، تو وہ اجلاس سے پہلے جنرل سیکرٹری کو تحریری درخواست جمع کروا سکتا ہے تاکہ اس کا میڈیا شیئر نہ کیا جائے۔
باب پنجم: انتخابی نظام
آرٹیکل 26: چیف الیکشن کمشنر
1. یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ میں ایک چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا جائے گا۔
2. چیف الیکشن کمشنر انتخابی عمل کا نگران اور محافظ ہوگا۔
3. چیف الیکشن کمشنر مکمل غیر جانبداری برقرار رکھنے کا پابند ہوگا۔
4. چیف الیکشن کمشنر کسی جماعت، امیدوار یا انتخابی مہم کی حمایت نہیں کر سکے گا۔
5. چیف الیکشن کمشنر انتخابات کے نتائج کا باضابطہ اعلان کرے گا۔
آرٹیکل 27: الیکشن کمیشن
1. چیف الیکشن کمشنر کی معاونت کے لیے الیکشن کمیشن قائم کیا جائے گا۔
2. الیکشن کمیشن کم از کم تین ارکان پر مشتمل ہوگا۔
3. الیکشن کمیشن ووٹر لسٹ، امیدواروں کے کاغذات نامزدگی اور ووٹنگ کے انتظامات کا ذمہ دار ہوگا۔
4. الیکشن کمیشن انتخابی شفافیت کو یقینی بنائے گا۔
5. الیکشن کمیشن انتخابی شکایات وصول اور ابتدائی جائزہ لے سکے گا۔
آرٹیکل 28: انتخابی ضابطۂ اخلاق
1. تمام امیدوار اور جماعتیں انتخابی ضابطۂ اخلاق کی پابند ہوں گی۔
2. ووٹ خریدنا، دھمکی دینا، جھوٹی معلومات پھیلانا یا کردار کشی کرنا ممنوع ہوگا۔
3. تمام امیدوار ایک دوسرے کا احترام کرنے کے پابند ہوں گے۔
4. انتخابی مہم تنظیمی اقدار کے مطابق چلائی جائے گی۔
5. ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر چیف الیکشن کمشنر کارروائی کر سکتا ہے۔
آرٹیکل 29: امیدواران اور اہلیت
1. ہر فعال رکن انتخاب میں حصہ لینے کا اہل ہوگا۔
2. امیدوار تنظیم کے قواعد و ضوابط کی پابندی کا پابند ہوگا۔
3. امیدوار کے خلاف کوئی سنگین تنظیمی کارروائی زیر التواء نہیں ہونی چاہیے۔
4. ہر جماعت وزیر اعلیٰ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر سمیت دیگر عہدوں کے لیے امیدوار نامزد کر سکتی ہے۔
5. امیدوار کی حتمی منظوری چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق ہوگی۔
آرٹیکل 30: ووٹنگ کا طریقہ کار
1. تمام انتخابات خفیہ رائے شماری (Secret Ballot) کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے۔
2. ہر رکن صرف ایک ووٹ ڈالنے کا مجاز ہوگا۔
3. ووٹنگ کا عمل چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ہوگا۔
4. ووٹوں کی گنتی شفاف انداز میں کی جائے گی۔
5. سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار کامیاب قرار پائے گا۔
6. برابر ووٹ ہونے کی صورت میں دوبارہ ووٹنگ کروائی جا سکتی ہے یا الیکشن کمیشن قواعد کے مطابق فیصلہ کرے گا۔
آرٹیکل 31: انتخابی نتائج، اپیل اور تنازعات
1. ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد چیف الیکشن کمشنر نتائج کا باضابطہ اعلان کرے گا۔
2. کوئی بھی امیدوار یا جماعت نتائج پر اعتراض کی صورت میں 48 گھنٹوں کے اندر تحریری درخواست جمع کروا سکتی ہے۔
3. انتخابی تنازعات کا ابتدائی جائزہ الیکشن کمیشن لے گا۔
4. الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے دائر کی جا سکتی ہے۔
5. ایگزیکٹو بورڈ کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا۔
باب ششم: ایگزیکٹو بورڈ
آرٹیکل 32: ایگزیکٹو بورڈ
1. یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ کا اعلیٰ ترین انتظامی ادارہ ایگزیکٹو بورڈ کہلائے گا۔
2. ایگزیکٹو بورڈ درج ذیل عہدیداران پر مشتمل ہوگا:
چیئرمین
نائب چیئرمین
جنرل سیکرٹری
جوائنٹ سیکرٹری
سیکرٹری پارلیمانی امور
سیکرٹری اطلاعات
سیکرٹری فنانس
سیکرٹری ویلفیئر
خواتین امور سیکرٹری
خواتین حقوق سیکرٹری
3. ایگزیکٹو بورڈ تنظیم کی پالیسی سازی، نگرانی اور اہم فیصلوں کا مجاز ہوگا۔
4. ایگزیکٹو بورڈ تنظیم کے مفاد، شفافیت اور آئینی بالادستی کے تحفظ کا ذمہ دار ہوگا۔
آرٹیکل 33: چیئرمین
1. چیئرمین یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ کا اعلیٰ ترین انتظامی عہدیدار ہوگا۔
2. چیئرمین تنظیم کی نمائندگی، پالیسی سازی اور مجموعی نگرانی کا ذمہ دار ہوگا۔
3. چیئرمین کو ہنگامی حالات میں فوری انتظامی فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
4. چیئرمین تمام شعبہ جات اور عہدیداران کی کارکردگی کی نگرانی کرے گا۔
5. چیئرمین تنظیم کے وژن اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا ذمہ دار ہوگا۔
آرٹیکل 34: نائب چیئرمین
1. نائب چیئرمین چیئرمین کا معاون اور دوسرا اعلیٰ ترین عہدیدار ہوگا۔
2. چیئرمین کی عدم موجودگی میں نائب چیئرمین اس کے اختیارات استعمال کرے گا۔
3. نائب چیئرمین تنظیمی سرگرمیوں، اجلاسوں اور منصوبوں کی نگرانی کرے گا۔
4. نائب چیئرمین ایگزیکٹو بورڈ اور مختلف شعبہ جات کے درمیان رابطے کو مؤثر بنائے گا۔
آرٹیکل 35: جنرل سیکرٹری
1. جنرل سیکرٹری تنظیم کے انتظامی امور کا سربراہ ہوگا۔
2. تمام سرکاری خط و کتابت، نوٹیفکیشنز اور ریکارڈ جنرل سیکرٹری کی نگرانی میں محفوظ کیے جائیں گے۔
3. جنرل سیکرٹری اجلاسوں کے ایجنڈے اور کارروائی کی تیاری کا ذمہ دار ہوگا۔
4. تنظیمی ریکارڈ اور ممبران کے ڈیٹا کی حفاظت جنرل سیکرٹری کی ذمہ داری ہوگی۔
5. جنرل سیکرٹری ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔
آرٹیکل 36: جوائنٹ سیکرٹری
1. جوائنٹ سیکرٹری جنرل سیکرٹری کا معاون ہوگا۔
2. جوائنٹ سیکرٹری پارلیمانی اجلاسوں کے دوران کارروائی، سفارشات اور اہم نکات کا ریکارڈ مرتب کرے گا۔
3. جوائنٹ سیکرٹری اجلاسوں کی کارروائی رپورٹ تیار کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔
4. جنرل سیکرٹری کی عدم موجودگی میں جوائنٹ سیکرٹری انتظامی ذمہ داریاں سرانجام دے سکے گا۔
5. جوائنٹ سیکرٹری تنظیمی دستاویزات اور ریکارڈ کی تیاری میں معاونت کرے گا۔
آرٹیکل 37: سیکرٹری پارلیمانی امور
1. سیکرٹری پارلیمانی امور پارلیمانی نظام اور اجلاسوں کے انتظام کا ذمہ دار ہوگا۔
2. پارلیمانی قواعد و ضوابط کی تیاری اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔
3. اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے ساتھ رابطہ کاری کرے گا۔
4. اجلاسوں کے انعقاد اور پارلیمانی سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا۔
5. پارلیمانی تربیت اور آگاہی پروگرامز کا انعقاد کر سکے گا۔
آرٹیکل 38: سیکرٹری اطلاعات
1. سیکرٹری اطلاعات تنظیم کے میڈیا اور اطلاعاتی امور کا ذمہ دار ہوگا۔
2. سرکاری بیانات، پریس ریلیز اور اعلانات جاری کرے گا۔
3. تنظیم کی سوشل میڈیا پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔
4. تنظیم کی مثبت تشہیر اور عوامی رابطوں کے فروغ کے لیے کام کرے گا۔
5. سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی کرے گا۔
آرٹیکل 39: سیکرٹری فنانس
1. سیکرٹری فنانس تنظیم کے مالی امور کا ذمہ دار ہوگا۔
2. تنظیم کی آمدنی، اخراجات اور مالی ریکارڈ مرتب اور محفوظ رکھے گا۔
3. ہر پروگرام، سیشن یا سرگرمی کے لیے مالی منصوبہ بندی اور بجٹ تیار کرے گا۔
4. تمام مالی معاملات میں شفافیت کو یقینی بنائے گا۔
5. مالیاتی رپورٹ ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے پیش کرے گا۔
آرٹیکل 40: سیکرٹری ویلفیئر
1. سیکرٹری ویلفیئر ممبران کی فلاح و بہبود اور معاونت کے امور کا ذمہ دار ہوگا۔
2. فلاحی سرگرمیوں، امدادی پروگرامز اور سماجی خدمات کی نگرانی کرے گا۔
3. ممبران کے مسائل اور شکایات کو ایگزیکٹو بورڈ تک پہنچائے گا۔
4. تنظیم کے فلاحی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں کردار ادا کرے گا۔
آرٹیکل 41: خواتین امور سیکرٹری
1. خواتین امور سیکرٹری تنظیم میں خواتین کی نمائندگی، شمولیت اور قیادت کو فروغ دینے کا ذمہ دار ہوگا۔
2. خواتین ممبران کے مسائل، تجاویز اور ضروریات کو ایگزیکٹو بورڈ تک پہنچائے گا۔
3. خواتین کی تربیت، قیادت سازی اور شرکت کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کام کرے گا۔
4. خواتین سے متعلق تنظیمی سرگرمیوں اور پروگرامز کی نگرانی کرے گا۔
آرٹیکل 42: خواتین حقوق سیکرٹری
1. خواتین حقوق سیکرٹری خواتین کے حقوق، آگاہی اور تحفظ سے متعلق سرگرمیوں کا ذمہ دار ہوگا۔
2. خواتین کے حقوق سے متعلق تعلیمی اور آگاہی پروگرامز منعقد کر سکے گا۔
3. خواتین ممبران کے لیے محفوظ، باوقار اور مساوی ماحول کے فروغ کے لیے کام کرے گا۔
4. خواتین سے متعلق سفارشات اور تجاویز ایگزیکٹو بورڈ کو پیش کرے گا۔
باب ہفتم: نظم و ضبط
آرٹیکل 43: ضابطۂ اخلاق
1. تمام ارکان اور عہدیداران تنظیم کے وقار، احترام اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے پابند ہوں گے۔
2. ذاتی حملے، بدزبانی، دھمکیاں، ہراسانی یا توہین آمیز رویہ ممنوع ہوگا۔
3. مذہبی، نسلی، لسانی، علاقائی یا صنفی نفرت انگیزی کی اجازت نہیں ہوگی۔
4. تمام ارکان ایک دوسرے کے ساتھ باوقار اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کریں گے۔
5. تنظیم کے اندر اختلافِ رائے کو احترام اور مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
آرٹیکل 44: مفادات کے تصادم (Conflict of Interest)
1. کوئی بھی رکن یا عہدیدار ایسے معاملے میں فیصلہ سازی کا حصہ نہیں بنے گا جس میں اس کا ذاتی مفاد شامل ہو۔
2. مفادات کے تصادم کی صورت میں متعلقہ فرد ایگزیکٹو بورڈ کو آگاہ کرنے کا پابند ہوگا۔
3. ایسے معاملات میں متعلقہ فرد ووٹنگ یا فیصلہ سازی میں حصہ نہیں لے سکے گا۔
4. ایگزیکٹو بورڈ اس صورتحال کے لیے مناسب متبادل طریقہ کار اختیار کر سکے گا۔
آرٹیکل 45: شوکاز نوٹس
1. تنظیمی قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں کسی بھی رکن یا عہدیدار کو شوکاز نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے۔
2. متعلقہ فرد کو وضاحت پیش کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے گا۔
3. موصول شدہ وضاحت کا جائزہ ایگزیکٹو بورڈ لے گا۔
4. غیر تسلی بخش وضاحت کی صورت میں مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔
آرٹیکل 46: تادیبی کارروائی
1. تنظیمی قواعد کی سنگین خلاف ورزی کی صورت میں تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
2. تادیبی کارروائی میں وارننگ، شوکاز نوٹس، معطلی، عہدے سے برطرفی یا رکنیت کے خاتمے کی سزا شامل ہو سکتی ہے۔
3. تمام کارروائیاں انصاف، شفافیت اور مناسب سماعت کے اصولوں کے مطابق ہوں گی۔
4. ایگزیکٹو بورڈ تادیبی کارروائی کا مجاز ادارہ ہوگا۔
5. اگر کوئی رکن تنظیم کے آئین، قواعد و ضوابط یا ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرے، غیر اخلاقی رویے، بدتمیزی، بدعنوانی، یا تنظیم کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے کسی عمل میں ملوث پایا جائے، یا اپنی مرضی سے استعفیٰ دے، یا تنظیم کی جانب سے رکنیت یا عہدے سے برطرف کیا جائے، تو ایسی صورت میں اس کی جمع کروائی گئی رکنیت فیس یا دیگر ادا شدہ فیس کسی بھی صورت میں قابلِ واپسی (Non-Refundable) نہیں ہوگی۔ یہ شرط رکنیت فارم پر بھی واضح طور پر درج ہوگی اور تمام اراکین کے لیے لازمی ہوگی۔
باب ہشتم: تنظیمی شناخت و میڈیا
آرٹیکل 47: تنظیمی نام، لوگو اور برانڈ کا تحفظ
1. یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ کا نام، لوگو، شناخت، پرچم، سرکاری دستاویزات اور برانڈ تنظیم کی ملکیت تصور ہوں گے۔
2. کوئی بھی رکن تنظیم کے نام یا لوگو کو ذاتی، کاروباری یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکے گا۔
3. تنظیم کے نام سے کسی غیر مجاز گروپ، پیج، ویب سائٹ یا پلیٹ فارم کے قیام کی اجازت نہیں ہوگی۔
4. تنظیمی لوگو یا شناخت میں ردوبدل کرنا ممنوع ہوگا۔
آرٹیکل 48: سوشل میڈیا پالیسی
1. تمام ارکان سوشل میڈیا پر تنظیم کے وقار کا خیال رکھنے کے پابند ہوں گے۔
2. کسی بھی رکن کو تنظیم کے خلاف نفرت انگیز، گمراہ کن یا نقصان دہ مواد شائع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
3. ارکان تنظیمی سرگرمیوں سے متعلق مثبت اور تعمیری مواد شیئر کر سکتے ہیں۔
4. سرکاری سوشل میڈیا پالیسی سیکرٹری اطلاعات اور جنرل سیکرٹری کی جانب سے جاری کی جائے گی۔
5. سوشل میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی کی صورت میں تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
آرٹیکل 49: شناختی کارڈ، عہدوں اور تنظیمی شناخت کے استعمال کے قواعد
1. تنظیمی شناختی کارڈ صرف شناختی مقاصد کے لیے استعمال ہوگا۔
2. کسی بھی رکن کو تنظیمی شناختی کارڈ یا عہدے کو سرکاری اختیار یا خصوصی استحقاق کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
3. تنظیمی عہدے یا شناخت کا استعمال کسی شخص یا ادارے پر دباؤ ڈالنے کے لیے نہیں کیا جا سکے گا۔
4. تنظیمی نام یا عہدے کو گاڑیوں کی نمبر پلیٹس، سرکاری طرز کے بورڈز یا گمراہ کن شناخت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
5. اس آرٹیکل کی خلاف ورزی تنظیمی بدعنوانی تصور ہوگی۔
آرٹیکل 50: تنظیمی تشہیر، میڈیا اور عوامی نمائندگی
1. ارکان تنظیمی تقریبات، آگاہی مہمات اور عوامی مفاد کی سرگرمیوں میں تنظیم کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔
2. تنظیمی لوگو اور شناخت کا استعمال صرف مقررہ میڈیا گائیڈ لائنز کے مطابق کیا جائے گا۔
3. ارکان تنظیمی پوسٹس، بینرز یا آگاہی مواد میں تنظیم کا لوگو استعمال کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
4. میڈیا گائیڈ لائنز کے حصول کے لیے ارکان جنرل سیکرٹری یا سیکرٹری اطلاعات سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
5. تنظیم کی جانب سے جاری کردہ سرکاری مؤقف صرف مجاز عہدیداران ہی جاری کر سکیں گے۔
باب نہم: اعزازات و شناخت
آرٹیکل 51: اعزازات و شناخت
1. یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ اپنے فعال، باصلاحیت اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے ارکان کو اعزازات اور اسناد سے نواز سکے گی۔
2. اعزازات کا مقصد ارکان کی حوصلہ افزائی، کارکردگی میں بہتری اور مثبت مسابقت کو فروغ دینا ہوگا۔
3. اعزازات کے انتخاب کے لیے ایگزیکٹو بورڈ یا نامزد کمیٹی سفارشات مرتب کرے گی۔
4. اعزازات سالانہ، ششماہی یا خصوصی بنیادوں پر دیے جا سکتے ہیں۔
آرٹیکل 52: بہترین یوتھ ایم پی اے ایوارڈ
1. ہر سال یا مقررہ مدت کے اختتام پر بہترین یوتھ ایم پی اے کا انتخاب کیا جا سکے گا۔
2. انتخاب کی بنیاد حاضری، قیادت، پارلیمانی سرگرمیوں میں شرکت، اخلاقی کردار اور تنظیمی خدمات ہوں گی۔
3. ایوارڈ یافتہ رکن کو سرٹیفکیٹ، شیلڈ یا دیگر مناسب اعزاز دیا جا سکتا ہے۔
آرٹیکل 53: بہترین مقرر اور پارلیمانی کارکردگی ایوارڈ
1. پارلیمانی اجلاسوں میں بہترین تقریر، بہترین تحقیق اور بہترین پارلیمانی کردار پر اعزازات دیے جا سکتے ہیں۔
2. اسپیکر، سیکرٹری پارلیمانی امور اور ایگزیکٹو بورڈ کی سفارشات کو مدنظر رکھا جا سکتا ہے۔
3. بہترین مقرر کے انتخاب میں اخلاق، موضوع پر گرفت، اندازِ گفتگو اور وقت کی پابندی کو مدنظر رکھا جائے گا۔
آرٹیکل 54: بہترین جماعت اور اجتماعی کارکردگی
1. بہترین جماعت کا انتخاب جماعتی نظم و ضبط، حاضری، سرگرمیوں اور مجموعی کارکردگی کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔
2. حکومتی اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کو مساوی بنیادوں پر جانچا جائے گا۔
3. بہترین جماعت کو خصوصی اعزاز یا سرٹیفکیٹ دیا جا سکتا ہے۔
آرٹیکل 55: خصوصی اعزازات
1. یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ نمایاں سماجی خدمات، رضاکارانہ خدمات، قیادت یا دیگر نمایاں کامیابیوں پر خصوصی اعزازات دے سکتی ہے۔
2. ایگزیکٹو بورڈ خصوصی خدمات انجام دینے والے افراد یا اداروں کو اعزازی اسناد بھی جاری کر سکتا ہے۔
باب دہم: متفرق دفعات
آرٹیکل 56: عہدے کا خالی ہونا (Vacancy of Office)
1. کسی عہدیدار کی وفات، استعفیٰ، معطلی، برطرفی یا مستقل غیر فعالیت کی صورت میں اس کا عہدہ خالی تصور ہوگا۔
2. خالی عہدے پر عارضی ذمہ داری متعلقہ نائب یا متبادل فرد کو سونپی جا سکتی ہے۔
3. مستقل تقرری ایگزیکٹو بورڈ یا متعلقہ انتخابی طریقہ کار کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔
4. تنظیم کسی بھی اہم عہدے کو غیر ضروری طور پر طویل مدت تک خالی نہیں رکھے گی۔
آرٹیکل 57: عدم اعتماد کی تحریک
1. کسی منتخب پارلیمانی عہدیدار، پارٹی چیف، اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا سکتی ہے۔
2. عدم اعتماد کی تحریک انتخابات کے کم از کم تین ماہ بعد ہی پیش کی جا سکے گی۔
3. تحریک پیش کرنے کے لیے کم از کم 25 فیصد متعلقہ ارکان کی تحریری حمایت ضروری ہوگی۔
4. تحریک کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
5. تحریک منظور ہونے کی صورت میں متعلقہ عہدہ خالی تصور ہوگا اور نیا انتخاب کروایا جائے گا۔
آرٹیکل 58: مالی ذمہ داریاں
1. تنظیم کے تمام مالی معاملات شفافیت اور دیانت داری کے اصولوں کے مطابق چلائے جائیں گے۔
2. حکومتی گروپ کے لیے لازم ہوگا کہ وہ انتخابات کے بعد ہونے والے ہر پارلیمانی سیشن کے اخراجات کا نصف (50 فیصد) حصہ ادا کرے۔
3. پارٹی فنڈنگ، سپانسرشپ یا معاونت صرف تنظیمی قواعد کے مطابق حاصل کی جا سکے گی۔
4. مالی ریکارڈ سیکرٹری فنانس کی نگرانی میں محفوظ رکھا جائے گا۔
5. ایگزیکٹو بورڈ کسی بھی وقت مالی ریکارڈ کا جائزہ لینے کا اختیار رکھتا ہوگا۔
6. انتخابی دن (Election Day) کے سیشن کے اخراجات کا نصف (50 فیصد) حصہ ایگزیکٹو باڈی ادا کرے گی، جبکہ بقیہ نصف اخراجات دونوں جماعتیں (YUP اور YPP) مساوی طور پر (25 فیصد فی جماعت) برداشت کریں گی۔
آرٹیکل 59: آئینی بالادستی
1. یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ کے تمام معاملات اس آئین کے مطابق چلائے جائیں گے۔
2. کوئی بھی فیصلہ، پالیسی یا کارروائی اس آئین سے متصادم نہیں ہوگی۔
3. آئین تنظیم کا اعلیٰ ترین داخلی قانونی دستاویز تصور ہوگا۔
4. تمام ارکان اور عہدیداران اس آئین کے پابند ہوں گے۔
آرٹیکل 60: آئین کی تشریح
1. آئین کی کسی شق کے بارے میں ابہام یا اختلاف کی صورت میں ایگزیکٹو بورڈ تشریح کا مجاز ہوگا۔
2. تشریح کرتے وقت تنظیم کے مقاصد، اصولوں اور مفاد کو مدنظر رکھا جائے گا۔
3. ایگزیکٹو بورڈ کی منظور شدہ تشریح حتمی تصور ہوگی۔
آرٹیکل 61: آئینی ترمیم
1. آئین میں ترمیم کی تجویز ایگزیکٹو بورڈ یا کم از کم 20 فیصد ارکان کی جانب سے پیش کی جا سکتی ہے۔
2. مجوزہ ترمیم تحریری صورت میں پیش کی جائے گی۔
3. آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے ایگزیکٹو بورڈ کی دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
4. منظور شدہ ترمیم آئین کا حصہ تصور ہوگی۔
آرٹیکل 62: نفاذِ دستور
1. یہ آئین ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد نافذ العمل ہوگا۔
2. اس آئین کے نفاذ کے بعد تمام تنظیمی معاملات اسی کے مطابق چلائے جائیں گے۔
3. سابقہ متضاد قواعد و ضوابط اس آئین کے نفاذ کے بعد غیر مؤثر تصور ہوں گے۔
4. تمام ارکان، عہدیداران اور پارلیمانی نمائندگان اس آئین کی پابندی کرنے کے پابند ہوں گے۔
5. یہ آئین یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ کی وحدت، قیادت، ترقی اور نوجوانوں کی نمائندگی کے اصولوں کا محافظ ہوگا۔
آرٹیکل 63: آئینی رہنمائی اور رجوع (Reference to the Constitution of Pakistan)
1. اگر اس دستور میں کوئی شق مبہم ہو، کوئی غلطی ہو یا کسی معاملے کے حل کے لیے کوئی واضح شق موجود نہ ہو، تو ایسی صورت میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین (Constitution of Pakistan) سے رجوع کیا جائے گا۔
2. پاکستان کے آئین کی متعلقہ دفعات کے مطابق رہنمائی حاصل کی جائے گی اور اسی کے مطابق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ آئین یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ کی وحدت، قیادت، ترقی اور نوجوانوں کی نمائندگی کے اصولوں کا محافظ ہوگا۔
UYP Logo
جاری کردہ از:
ابوبکر احمد
چیئرمین ، یونائیٹڈ یوتھ پارلیمنٹ
Abu Bakkar Ahmad
Chairman — United Youth Parliament
United Youth Parliament © 2026
اتحاد • قیادت • ترقی
Unity • Leadership • Progress